مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے عالمی یومِ طوفان الاقصٰی کے موقع پر کہا کہ طوفان الاقصیٰ ایک صدی سے ظلم و بربریت کا شکار فلسطینی قوم کی بقا اور حقِ خودارادیت کی مزاحمت کا مظہر ہے، جو اب لبنان، یمن اور ایران تک پھیل چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد نے عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار اور امتِ مسلمہ اور مسلمان حکمرانوں کے کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے مظلوموں کی حمایت کے دعوؤں کا حقیقی امتحان لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور عراق سے امریکی انخلا اس بات کی دلیل نہیں کہ امریکہ نے ان خطوں میں اپنی مداخلت ختم کر دی، بلکہ اس نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مقامی جانشینوں کے ذریعے اپنا اثرورسوخ برقرار رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب مشرقِ وسطیٰ میں بھی امریکہ کو اسی نوعیت کی پسپائی کا سامنا ہے، جہاں محاذِ مزاحمت نے اس کی عسکری برتری اور ناقابلِ تسخیر ہونے کے تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ امریکہ اب براہِ راست جنگ کا بوجھ اپنے اتحادیوں پر منتقل کرکے مزاحمت کے خلاف جنگ کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، جس میں سعودی اتحاد کو اہم کردار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی امریکی جنگ میں فریق بننے سے پہلے افغان جنگ کے تباہ کن اثرات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے، جن کا خمیازہ ملک آج بھی دہشت گردی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بدامنی اور مذہبی منافرت کی صورت میں بھگت رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کو امریکی منصوبوں کا حصہ بننے کے بجائے قومی مفادات اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ